مرزا غالبMirza Ghalib
मिर्ज़ा ग़ालिब
- Born
- 1797
- Died
- 1869
- Period
- Classical (Mughal Delhi)
- Style
- Ghazal; philosophical and witty
- Also known
- Mirza Asadullah Khan Ghalib; Asad; Galib; मिर्ज़ा असदुल्लाह ख़ान ग़ालिब
Mirza Asadullah Khan, who wrote under the pen names Ghalib and Asad, was born in Agra and spent most of his life in Delhi. He wrote in both Urdu and Persian. His Urdu ghazals, collected in his Diwan, are known for their layered meanings, wit and philosophical questioning, and his letters are also valued as early modern Urdu prose.
مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ آگرہ میں پیدا ہوئے اور زندگی کا بڑا حصہ دہلی میں گزارا۔ انھوں نے اردو اور فارسی دونوں میں شاعری کی۔ ان کی اردو غزلیں معنی کی تہہ داری، ظرافت اور فلسفیانہ سوالوں کے لیے مشہور ہیں۔
This biography is an editorial summary. Sources are still being added.
Poetry by Mirza Ghalib
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا