دو سطری شاعری
A sher is a complete thought in two lines. These couplets stand on their own.
ہر پھول کی خوشبو میں، ہر صبح کی رنگت میں
اے میرے خدا تیری ہی قدرت کی جھلک ہے
زندگی ایک کتاب ہے جس کا
ہر ورق دوسرا سکھاتا ہے
تمہارا نام لکھا ہے ہوا کے کاغذ پر
جدھر بھی جاؤں، مہکتی ہے یہ تحریر مری
برسوں کے بعد ملے تو کچھ بھی کہا نہیں
آنکھوں نے ساری بات کہی، لب ہلا نہیں
وہ جاتے جاتے بھی مڑ کر نہیں دیکھا اس نے
ہم آج تک اسی لمحے میں کھڑے ہیں جاناں
پیڑ نے دھوپ سہی، چھاؤں ہمیں بانٹ دی
ایسی سخاوت کہاں ہم نے کہیں سیکھی ہے
قدم رکے تو زمانہ بھی رک کے دیکھے گا
چلو تو راستہ خود ہی بچھا ملے گا تمہیں
چائے ٹھنڈی ہو گئی، ہم شعر کہتے رہ گئے
قافیہ ملتا نہیں تھا، بس یہ سہتے رہ گئے
یہ مٹی ماں کی صورت ہے، اسے آنکھوں سے چومیں ہم
جہاں جائیں، اسی کی خوشبوؤں میں جھومیں ہم
پرانی ڈائری کے ایک صفحے میں
ابھی تک خشک سا اک پھول رکھا ہے
بھری محفل میں بھی تنہا سا اک کونا میرا
شور سب کا تھا مگر چپ کا بچھونا میرا
جھک کے ملنے سے جو ملتا ہے وہ رکھ لو تم ہی
ہم کو اپنی ہی انا کا یہ سفر کافی ہے
رات جتنی بھی ہو لمبی، اسے ڈھلنا ہوگا
ایک دیپک ہی سہی، ہم کو تو جلنا ہوگا
دوست وہ ہے جو اندھیرے میں بھی پہچان لے
تیری خاموشی کو بھی تیری زباں مان لے
باپ کے کاندھوں پہ بیٹھے تو یہ دنیا دیکھی
اب جو اونچائی ملی ہے وہ انہی کا قد ہے
ہر دھوپ میں جو سر پہ مرے سائباں رہی
وہ ماں کی اک دعا تھی جو ہر دم رواں رہی
بارش کی ہر اک بوند نے دستک دی دریچے پر
یادوں نے کہا چپکے سے، وہ لوٹ کے آئے گا
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
عمرِ دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے