وقت دریا ہے، کنارے پہ کھڑے لوگوں کو
نہ تو موجوں کا پتا ہے، نہ کنارے کی خبر
Poetry
بیگم نے کہا شعر سناؤ تو جانیں
ہم نے بھی کہا وزن بتاؤ تو جانیں
جو اپنے دل کے آئینے کو صاف کر گیا
وہ خود سے مل کے سارے جہاں سے گزر گیا
تم سے ملنے کا بہانہ ڈھونڈتا رہتا ہوں میں
ہر گلی میں اک فسانہ ڈھونڈتا رہتا ہوں میں
وہ یار جو چائے کی اک پیالی پہ ملتے تھے
باتوں میں جن کی شام کے سب پھول کھلتے تھے
گر گئے ہو تو اٹھو، گرد جھٹک کر دیکھو
راستہ اب بھی وہیں ہے، ذرا ہٹ کر دیکھو
جب بھی گھر لوٹا تو دروازے پہ ماں ملتی تھی
اس کی آنکھوں میں مری ساری تھکن ڈھلتی تھی
بادل نے آج پھر سے پرانی کہانی کی
چھت پر ٹپکتی بوندوں نے کچھ مہربانی کی
ہر پھول کی خوشبو میں، ہر صبح کی رنگت میں
اے میرے خدا تیری ہی قدرت کی جھلک ہے
زندگی ایک کتاب ہے جس کا
ہر ورق دوسرا سکھاتا ہے
تمہارا نام لکھا ہے ہوا کے کاغذ پر
جدھر بھی جاؤں، مہکتی ہے یہ تحریر مری
برسوں کے بعد ملے تو کچھ بھی کہا نہیں
آنکھوں نے ساری بات کہی، لب ہلا نہیں
وہ جاتے جاتے بھی مڑ کر نہیں دیکھا اس نے
ہم آج تک اسی لمحے میں کھڑے ہیں جاناں
پیڑ نے دھوپ سہی، چھاؤں ہمیں بانٹ دی
ایسی سخاوت کہاں ہم نے کہیں سیکھی ہے
قدم رکے تو زمانہ بھی رک کے دیکھے گا
چلو تو راستہ خود ہی بچھا ملے گا تمہیں
چائے ٹھنڈی ہو گئی، ہم شعر کہتے رہ گئے
قافیہ ملتا نہیں تھا، بس یہ سہتے رہ گئے
یہ مٹی ماں کی صورت ہے، اسے آنکھوں سے چومیں ہم
جہاں جائیں، اسی کی خوشبوؤں میں جھومیں ہم
پرانی ڈائری کے ایک صفحے میں
ابھی تک خشک سا اک پھول رکھا ہے
بھری محفل میں بھی تنہا سا اک کونا میرا
شور سب کا تھا مگر چپ کا بچھونا میرا
جھک کے ملنے سے جو ملتا ہے وہ رکھ لو تم ہی
ہم کو اپنی ہی انا کا یہ سفر کافی ہے
رات جتنی بھی ہو لمبی، اسے ڈھلنا ہوگا
ایک دیپک ہی سہی، ہم کو تو جلنا ہوگا
دوست وہ ہے جو اندھیرے میں بھی پہچان لے
تیری خاموشی کو بھی تیری زباں مان لے
باپ کے کاندھوں پہ بیٹھے تو یہ دنیا دیکھی
اب جو اونچائی ملی ہے وہ انہی کا قد ہے
ہر دھوپ میں جو سر پہ مرے سائباں رہی
وہ ماں کی اک دعا تھی جو ہر دم رواں رہی