وقت دریا ہے، کنارے پہ کھڑے لوگوں کو
نہ تو موجوں کا پتا ہے، نہ کنارے کی خبر
زندگی اور فکرLife & Thought
Verses that think about time, fate, wisdom and the self.
- Beauty
- Dreams
- Fate & Destiny
- Life Poetry
- Mortality
- Philosophical Poetry
- Selfhood (Khudi)
- Struggle
- Time
- Wisdom
جو اپنے دل کے آئینے کو صاف کر گیا
وہ خود سے مل کے سارے جہاں سے گزر گیا
گر گئے ہو تو اٹھو، گرد جھٹک کر دیکھو
راستہ اب بھی وہیں ہے، ذرا ہٹ کر دیکھو
زندگی ایک کتاب ہے جس کا
ہر ورق دوسرا سکھاتا ہے
برسوں کے بعد ملے تو کچھ بھی کہا نہیں
آنکھوں نے ساری بات کہی، لب ہلا نہیں
پیڑ نے دھوپ سہی، چھاؤں ہمیں بانٹ دی
ایسی سخاوت کہاں ہم نے کہیں سیکھی ہے
قدم رکے تو زمانہ بھی رک کے دیکھے گا
چلو تو راستہ خود ہی بچھا ملے گا تمہیں
جھک کے ملنے سے جو ملتا ہے وہ رکھ لو تم ہی
ہم کو اپنی ہی انا کا یہ سفر کافی ہے
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
عمرِ دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے