گر گئے ہو تو اٹھو، گرد جھٹک کر دیکھو
راستہ اب بھی وہیں ہے، ذرا ہٹ کر دیکھو
جدوجہدStruggle
Falling, rising and carrying on.
قدم رکے تو زمانہ بھی رک کے دیکھے گا
چلو تو راستہ خود ہی بچھا ملے گا تمہیں
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں