ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
غزلGhazal
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے