وقت دریا ہے، کنارے پہ کھڑے لوگوں کو
نہ تو موجوں کا پتا ہے، نہ کنارے کی خبر
فطرت اور موسمNature & Seasons
Rain, gardens, the moon and the turning seasons.
بادل نے آج پھر سے پرانی کہانی کی
چھت پر ٹپکتی بوندوں نے کچھ مہربانی کی
ہر پھول کی خوشبو میں، ہر صبح کی رنگت میں
اے میرے خدا تیری ہی قدرت کی جھلک ہے
پیڑ نے دھوپ سہی، چھاؤں ہمیں بانٹ دی
ایسی سخاوت کہاں ہم نے کہیں سیکھی ہے
رات جتنی بھی ہو لمبی، اسے ڈھلنا ہوگا
ایک دیپک ہی سہی، ہم کو تو جلنا ہوگا
بارش کی ہر اک بوند نے دستک دی دریچے پر
یادوں نے کہا چپکے سے، وہ لوٹ کے آئے گا
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی