وقت دریا ہے، کنارے پہ کھڑے لوگوں کو
نہ تو موجوں کا پتا ہے، نہ کنارے کی خبر
جذباتMoods & Emotions
Poetry gathered by the feeling it carries.
- Deep Poetry
- Desire & Longing
- Funny Poetry
- Happiness
- Heartbreak Poetry
- Hope
- Inspirational Poetry
- Loneliness
- Love Poetry
- Memories
- Motivation
- Pain
- Reunion
- Romantic Poetry
- Sad Poetry
- Self-Respect
- Separation
- Waiting
بیگم نے کہا شعر سناؤ تو جانیں
ہم نے بھی کہا وزن بتاؤ تو جانیں
تم سے ملنے کا بہانہ ڈھونڈتا رہتا ہوں میں
ہر گلی میں اک فسانہ ڈھونڈتا رہتا ہوں میں
وہ یار جو چائے کی اک پیالی پہ ملتے تھے
باتوں میں جن کی شام کے سب پھول کھلتے تھے
گر گئے ہو تو اٹھو، گرد جھٹک کر دیکھو
راستہ اب بھی وہیں ہے، ذرا ہٹ کر دیکھو
جب بھی گھر لوٹا تو دروازے پہ ماں ملتی تھی
اس کی آنکھوں میں مری ساری تھکن ڈھلتی تھی
بادل نے آج پھر سے پرانی کہانی کی
چھت پر ٹپکتی بوندوں نے کچھ مہربانی کی
تمہارا نام لکھا ہے ہوا کے کاغذ پر
جدھر بھی جاؤں، مہکتی ہے یہ تحریر مری
برسوں کے بعد ملے تو کچھ بھی کہا نہیں
آنکھوں نے ساری بات کہی، لب ہلا نہیں
وہ جاتے جاتے بھی مڑ کر نہیں دیکھا اس نے
ہم آج تک اسی لمحے میں کھڑے ہیں جاناں
قدم رکے تو زمانہ بھی رک کے دیکھے گا
چلو تو راستہ خود ہی بچھا ملے گا تمہیں
چائے ٹھنڈی ہو گئی، ہم شعر کہتے رہ گئے
قافیہ ملتا نہیں تھا، بس یہ سہتے رہ گئے
پرانی ڈائری کے ایک صفحے میں
ابھی تک خشک سا اک پھول رکھا ہے
بھری محفل میں بھی تنہا سا اک کونا میرا
شور سب کا تھا مگر چپ کا بچھونا میرا
جھک کے ملنے سے جو ملتا ہے وہ رکھ لو تم ہی
ہم کو اپنی ہی انا کا یہ سفر کافی ہے
رات جتنی بھی ہو لمبی، اسے ڈھلنا ہوگا
ایک دیپک ہی سہی، ہم کو تو جلنا ہوگا
بارش کی ہر اک بوند نے دستک دی دریچے پر
یادوں نے کہا چپکے سے، وہ لوٹ کے آئے گا
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
عمرِ دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا