وقت دریا ہے، کنارے پہ کھڑے لوگوں کو
نہ تو موجوں کا پتا ہے، نہ کنارے کی خبر
قطعہQita · four lines
بیگم نے کہا شعر سناؤ تو جانیں
ہم نے بھی کہا وزن بتاؤ تو جانیں
جو اپنے دل کے آئینے کو صاف کر گیا
وہ خود سے مل کے سارے جہاں سے گزر گیا
تم سے ملنے کا بہانہ ڈھونڈتا رہتا ہوں میں
ہر گلی میں اک فسانہ ڈھونڈتا رہتا ہوں میں
وہ یار جو چائے کی اک پیالی پہ ملتے تھے
باتوں میں جن کی شام کے سب پھول کھلتے تھے
گر گئے ہو تو اٹھو، گرد جھٹک کر دیکھو
راستہ اب بھی وہیں ہے، ذرا ہٹ کر دیکھو
جب بھی گھر لوٹا تو دروازے پہ ماں ملتی تھی
اس کی آنکھوں میں مری ساری تھکن ڈھلتی تھی
بادل نے آج پھر سے پرانی کہانی کی
چھت پر ٹپکتی بوندوں نے کچھ مہربانی کی