تلاش
Type in Urdu, Roman Urdu or Hindi: the same word is found in every script.
Latest poetry
وقت دریا ہے، کنارے پہ کھڑے لوگوں کو
نہ تو موجوں کا پتا ہے، نہ کنارے کی خبر
بیگم نے کہا شعر سناؤ تو جانیں
ہم نے بھی کہا وزن بتاؤ تو جانیں
جو اپنے دل کے آئینے کو صاف کر گیا
وہ خود سے مل کے سارے جہاں سے گزر گیا
تم سے ملنے کا بہانہ ڈھونڈتا رہتا ہوں میں
ہر گلی میں اک فسانہ ڈھونڈتا رہتا ہوں میں
وہ یار جو چائے کی اک پیالی پہ ملتے تھے
باتوں میں جن کی شام کے سب پھول کھلتے تھے
گر گئے ہو تو اٹھو، گرد جھٹک کر دیکھو
راستہ اب بھی وہیں ہے، ذرا ہٹ کر دیکھو
جب بھی گھر لوٹا تو دروازے پہ ماں ملتی تھی
اس کی آنکھوں میں مری ساری تھکن ڈھلتی تھی
بادل نے آج پھر سے پرانی کہانی کی
چھت پر ٹپکتی بوندوں نے کچھ مہربانی کی
ہر پھول کی خوشبو میں، ہر صبح کی رنگت میں
اے میرے خدا تیری ہی قدرت کی جھلک ہے
زندگی ایک کتاب ہے جس کا
ہر ورق دوسرا سکھاتا ہے
تمہارا نام لکھا ہے ہوا کے کاغذ پر
جدھر بھی جاؤں، مہکتی ہے یہ تحریر مری
برسوں کے بعد ملے تو کچھ بھی کہا نہیں
آنکھوں نے ساری بات کہی، لب ہلا نہیں
وہ جاتے جاتے بھی مڑ کر نہیں دیکھا اس نے
ہم آج تک اسی لمحے میں کھڑے ہیں جاناں
پیڑ نے دھوپ سہی، چھاؤں ہمیں بانٹ دی
ایسی سخاوت کہاں ہم نے کہیں سیکھی ہے
قدم رکے تو زمانہ بھی رک کے دیکھے گا
چلو تو راستہ خود ہی بچھا ملے گا تمہیں
چائے ٹھنڈی ہو گئی، ہم شعر کہتے رہ گئے
قافیہ ملتا نہیں تھا، بس یہ سہتے رہ گئے
یہ مٹی ماں کی صورت ہے، اسے آنکھوں سے چومیں ہم
جہاں جائیں، اسی کی خوشبوؤں میں جھومیں ہم
پرانی ڈائری کے ایک صفحے میں
ابھی تک خشک سا اک پھول رکھا ہے
بھری محفل میں بھی تنہا سا اک کونا میرا
شور سب کا تھا مگر چپ کا بچھونا میرا
جھک کے ملنے سے جو ملتا ہے وہ رکھ لو تم ہی
ہم کو اپنی ہی انا کا یہ سفر کافی ہے
رات جتنی بھی ہو لمبی، اسے ڈھلنا ہوگا
ایک دیپک ہی سہی، ہم کو تو جلنا ہوگا
دوست وہ ہے جو اندھیرے میں بھی پہچان لے
تیری خاموشی کو بھی تیری زباں مان لے
باپ کے کاندھوں پہ بیٹھے تو یہ دنیا دیکھی
اب جو اونچائی ملی ہے وہ انہی کا قد ہے
ہر دھوپ میں جو سر پہ مرے سائباں رہی
وہ ماں کی اک دعا تھی جو ہر دم رواں رہی